مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے آزادی اسپورٹس کمپلیکس کے 12 ہزار نشستوں والے اسٹیڈیم کا دورہ کیا، جو حالیہ امریکی اور صہیونی حملوں میں مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔
دورے کے دوران صدر پزشکیان نے بحالی کے کاموں اور نقصانات کے تخمینے سے متعلق تفصیلات کا جائزہ لیا اور کھیلوں کے حکام و انتظامیہ سے گفتگو کرتے ہوئے تباہ شدہ ڈھانچے کی جلد از جلد تعمیر نو اور ملک بھر میں کھیلوں کی سہولتوں کی مکمل بحالی پر زور دیا۔
انہوں نے کھیلوں کے مراکز اور عوامی تنصیبات کو نشانہ بنانے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے میدانوں پر حملہ صرف کسی عمارت یا جگہ کی تباہی نہیں بلکہ یہ قومی تاریخ، شناخت، نوجوانوں کی امیدوں اور فخر پر حملہ ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ آزادی اسپورٹس کمپلیکس کئی دہائیوں سے ایران کی عظیم کھیلوں کی کامیابیوں، قومی فتوحات اور عوامی خوشیوں کی علامت رہا ہے۔
پزشکیان نے مزید کہا کہ ایسے مقامات کو نشانہ بنانا واضح کرتا ہے کہ ایران کے دشمن صرف ملک کی دفاعی صلاحیت یا سائنسی ترقی کے مخالف نہیں بلکہ وہ ایرانی قوم کے وقار، اتحاد، خوشی اور سربلندی کے ہر نشان سے دشمنی رکھتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ